ایک دن کی بات ہے، ایک چھوٹے سے گاؤں کے قریب ایک ریلوے لائن گزرتی تھی۔ اس پٹری کے کنارے ایک ننھا سا بکری کا بچہ اکثر کھیلنے آتا تھا۔ وہ بڑا چنچل، نٹ کھٹ اور تجسس سے بھرا ہوا تھا۔ ہر روز وہ نئی نئی چیزیں دیکھتا اور سیکھنے کی کوشش کرتا۔
ایک دن اس نے دیکھا کہ پٹری کے قریب مٹی نرم ہے۔ اس کے ذہن میں فوراً ایک خیال آیا — “اگر میں یہاں ایک درخت لگا دوں تو جب بڑا ہوگا تو ٹرین کے مسافروں کو سایہ دے گا!” 🌳
وہ دوڑ کر گاؤں گیا، ایک چھوٹا سا پودا لایا، اور بڑی محبت سے پٹری کے پاس زمین کھود کر لگانے لگا۔ سورج تیز تھا، مگر وہ ہمت سے کام کرتا رہا۔ آخرکار پودا لگا کر اس نے مٹی جما دی، پانی ڈالا اور مسکرا کر بولا: “بس اب تُو بڑا ہو جا، میں روز پانی دوں گا!”
لوگوں نے جب یہ دیکھا تو ہنسنے لگے — “ارے، بکری کا بچہ درخت لگا رہا ہے؟” مگر وہ نہیں رکا۔ روز وہاں جاتا، پانی ڈالتا اور پودے سے باتیں کرتا۔
کچھ دن بعد ریلوے کے انجینئر نے دیکھا کہ پٹری کے پاس ایک خوبصورت سبز پودا اگ آیا ہے۔ اس نے کہا، “کتنا پیارا خیال ہے! جب یہ درخت بڑھے گا تو یہ ٹرین کے مسافروں کو سایہ دے گا۔”
سال گزرتے گئے، وہ پودا ایک تناور درخت بن گیا۔ گرمیوں میں جب ٹرین رکتی تو مسافر اس کے نیچے بیٹھ کر آرام کرتے، بچے اس کے گرد کھیلتے، اور سب اس درخت کی کہانی سناتے — “
Yellow Lamp
•
Jul 23, 2025
I’m sorry to say I really wouldn’t want this unless it’s a toggleable option that I can keep off.
Log in to comment and vote
Comments2
Aqua Spaghetti
Oct 25, 2025
ایک دن کی بات ہے، ایک چھوٹے سے گاؤں کے قریب ایک ریلوے لائن گزرتی تھی۔ اس پٹری کے کنارے ایک ننھا سا بکری کا بچہ اکثر کھیلنے آتا تھا۔ وہ بڑا چنچل، نٹ کھٹ اور تجسس سے بھرا ہوا تھا۔ ہر روز وہ نئی نئی چیزیں دیکھتا اور سیکھنے کی کوشش کرتا۔
ایک دن اس نے دیکھا کہ پٹری کے قریب مٹی نرم ہے۔ اس کے ذہن میں فوراً ایک خیال آیا — “اگر میں یہاں ایک درخت لگا دوں تو جب بڑا ہوگا تو ٹرین کے مسافروں کو سایہ دے گا!” 🌳
وہ دوڑ کر گاؤں گیا، ایک چھوٹا سا پودا لایا، اور بڑی محبت سے پٹری کے پاس زمین کھود کر لگانے لگا۔ سورج تیز تھا، مگر وہ ہمت سے کام کرتا رہا۔ آخرکار پودا لگا کر اس نے مٹی جما دی، پانی ڈالا اور مسکرا کر بولا:
“بس اب تُو بڑا ہو جا، میں روز پانی دوں گا!”
لوگوں نے جب یہ دیکھا تو ہنسنے لگے —
“ارے، بکری کا بچہ درخت لگا رہا ہے؟”
مگر وہ نہیں رکا۔ روز وہاں جاتا، پانی ڈالتا اور پودے سے باتیں کرتا۔
کچھ دن بعد ریلوے کے انجینئر نے دیکھا کہ پٹری کے پاس ایک خوبصورت سبز پودا اگ آیا ہے۔ اس نے کہا،
“کتنا پیارا خیال ہے! جب یہ درخت بڑھے گا تو یہ ٹرین کے مسافروں کو سایہ دے گا۔”
سال گزرتے گئے، وہ پودا ایک تناور درخت بن گیا۔ گرمیوں میں جب ٹرین رکتی تو مسافر اس کے نیچے بیٹھ کر آرام کرتے، بچے اس کے گرد کھیلتے، اور سب اس درخت کی کہانی سناتے —
“
Yellow Lamp
Jul 23, 2025
I’m sorry to say I really wouldn’t want this unless it’s a toggleable option that I can keep off.